اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ترکیہ کی اپوزیشن جماعت اچھی پارٹی کے پارلیمانی دھڑے کے نائب سربراہ تورہان چومیز نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تجارتی بحری آمدورفت روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے دستاویزات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بعض بحری جہاز امبارلی بندرگاہ سے اسرائیلی بندرگاہ اشدود جبکہ کچھ دیگر اسکندرون بندرگاہ سے حیفا کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔
تورہان چومیز کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ کی وزارت تجارت نے غزہ میں جنگ کے ردعمل میں مئی 2024 میں اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ترکیہ نے تجارت کی بحالی کو غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی سے مشروط کیا تھا۔
چومیز اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ بعض تجارتی سامان بالواسطہ راستوں سے اسرائیلی بندرگاہوں تک پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض بحری جہاز اپنی منزل تبدیل کرکے یا یونان اور رومانیہ سمیت تیسرے ممالک کی بندرگاہوں پر عارضی قیام کے بعد اسرائیلی بندرگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔
یہ پیش رفت ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں شام کی صورتحال اور ترکیہ سے متعلق بعض مقامات پر اسرائیلی حملوں کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ